Showing posts with label Grief of separation. Show all posts
Showing posts with label Grief of separation. Show all posts

Saturday, 18 April 2020

Dukh judai kay ( Grief of separation )

 غزل

دُکھ جدائی کے خواب ہو  جائیں
درد سارے گلاب ہو جائیں

آپ بیٹھیں جو میرےپہلو میں
لوگ جل کر کباب ہو جائیں

ایک پل کو جو دور تم جاوُ
اشک  میرےکتاب ہو جائیں

میرے لب پر سوال آیا ہے
تیری آنکھیں جواب ہو جائیں

رابطے میں رہا کرو تم بھی
نہ کہیں دِل خراب ہو جائیں

جن پرندوں کو اُڑنا آتا  ہو
اُن پہ پنجرے عذاب ہو جائیں

اُس کے  ہاتھوں کے لمس سے اقراء
خاک ریزے گلاب ہو جائیں

اقراء عالیہ



Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...