Showing posts with label The world is not bad. Show all posts
Showing posts with label The world is not bad. Show all posts

Saturday, 7 March 2020

Duniya Ka kuch Bura ( The world is not bad )

غزل

دنیا کا کچھ بُرا بھی تما شا نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا

تم سے ملے بھی ہم تو جُدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا

کہتے تھے ایک پل  نہ جیئیں گےتیرے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا

کاٹے  ہیں اِس طرح سےترے بغیر روزوشب
میں سانس لے رہا تھا پر زندہ نہیں رہا

کیسے ملائیں آنکھ کسی آئینے سے ہم
امجدؔ ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا

امجد اسلام امجدؔ




Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل