آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں
ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں
خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن
اب آدمی کی صُورت جلوہ نما ہوا ہوں
کعبہ کلیسا مندر مجھے دھونڈنے کوجا ئیں
غافل سمجھ رہے ہیں کوئی چیز گمشدہ ہوں
پہلے تو لا مکاں تھا، اب ہوں مکاں والا
آدم میرا مکاں ہے اُس میں رہ رہا ہوں
تخلیق میری آدم، پہچان میری آدم
میں کس طرح کہوں گا آدم سےمیں جدا ہوں
یہ میں نےہی کہا تھا آدم کو سجدہ کر لو
آدم کے بُت کے اندر میں خود بسا ہوا ہوں
آدم کو خودہی میں نےاقبال ہے یہ بخشا
گھبراؤ نا فنا سے خود میں تیری بقا ہوں
بیدم شاہ وارثی







