اب میری بات کا تمہیں اعتبار ہی نہیں
مطلب نکل گیا ہے تو اب پیار ہی نہیں
کیسے بتاؤں تم کو، سودا ہے نقدِ جاں
جب چاہو لے لو جان، ادھار ہی نہیں
عادل
اب میری بات کا تمہیں اعتبار ہی نہیں
مطلب نکل گیا ہے تو اب پیار ہی نہیں
کیسے بتاؤں تم کو، سودا ہے نقدِ جاں
جب چاہو لے لو جان، ادھار ہی نہیں
عادل
- ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
- کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
- دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
- نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
- نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
- ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
- کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
- کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
- مسرور انور
جب سے ہم آپ کی نظر کا شکار ہو گئے
قسم خدا کی اور بھی ہوشیار ہو گئے
جن کو سمجھ رہے تھے برسوں سے اپنا یار
دشمن سے ہاتھ ملانے کو تیار ہو گئے
Ever since we fell prey to your gaze...
By God... we became even more cautious.
Those whom we had considered our friends for years...
They became ready to join hands with the enemy.
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں
ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں
خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن
اب آدمی کی صُورت جلوہ نما ہوا ہوں
کعبہ کلیسا مندر مجھے دھونڈنے کوجا ئیں
غافل سمجھ رہے ہیں کوئی چیز گمشدہ ہوں
پہلے تو لا مکاں تھا، اب ہوں مکاں والا
آدم میرا مکاں ہے اُس میں رہ رہا ہوں
تخلیق میری آدم، پہچان میری آدم
میں کس طرح کہوں گا آدم سےمیں جدا ہوں
یہ میں نےہی کہا تھا آدم کو سجدہ کر لو
آدم کے بُت کے اندر میں خود بسا ہوا ہوں
آدم کو خودہی میں نےاقبال ہے یہ بخشا
گھبراؤ نا فنا سے خود میں تیری بقا ہوں
بیدم شاہ وارثی
زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
ہر لمحہ ہر حساب
میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عبادت جو کرتے
ہیں جنت کی چاہ میں
اُ ن کے ہر ثواب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عادلؔ
جس آنکھ نے
دیکھا تجھے اُس آنکھ کو دیکھوں
ہے اِس کے سوا
کیا تیرے دیدار کی صورت
وؔاصف کو سرِ دَار
پُکارا ہے کسی نے
اِنکار کی صورت
ہے نہ اِقرار کی صورت
واصف ؔ
اب میری بات کا تمہیں اعتبار ہی نہیں مطلب نکل گیا ہے تو اب پیار ہی نہیں کیسے بتاؤں تم کو، سودا ہے نقدِ جاں جب ...