Showing posts with label The trade of lovers. Show all posts
Showing posts with label The trade of lovers. Show all posts

Saturday, 4 January 2020

Baant laitay hain ( The trade of lovers)

غزل

چلو اب ایسا کرتے ہیں، ستارے بانٹ لیتے ہیں
ضرورت کے مطابق ہم، سہارے بانٹ لیتے ہیں

محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں، خسارے بانٹ لیتے ہیں

اگر ملنا نہیں ممکن تو لہروں پر قدم رکھ  کر
ابھی دریائے اُلفت کے کنارے  بانٹ لیتے ہیں

میری جھولی میں جتنے بھی وفا کے پھول ہیں اُن کو
اکٹھے  بیٹھ کر سارے کے سارے  بانٹ لیتے ہیں

محبت کے علاوہ پاس اپنے کچھ نہیں ہے فیضؔ
اِسی دولت کو ہم قسمت کے مارے بانٹ لیتے ہیں


Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل