یارب
میرے لب پہ سدا یہ التجا ہو
کچھ
اور نہیں تیرے محبوبؐ کی محبت عطا ہو
ہو
لاکھ خیالات میرے ذہن میں لیکن
دِل
میں میرے نہ کوئی تیرے سِوا ہو
عادلؔ
یارب
میرے لب پہ سدا یہ التجا ہو
کچھ
اور نہیں تیرے محبوبؐ کی محبت عطا ہو
ہو
لاکھ خیالات میرے ذہن میں لیکن
دِل
میں میرے نہ کوئی تیرے سِوا ہو
نہیں
نہیں ،میں نہیں ہوں
تو
ہی تو ہے، میں نہیں ہوں
ہے
بظاہر وجود میرا عادلؔ
میں نہیں ہوںتو ہے موجود
اکھین
کنّے دور ہے، دل کنّے گیا نہیں
دِل
مجبور ہے، ہالے تک بُھلیا نہیں
توں
مِل ویجیں ہاں، زندگی بن ونجیں ہا
عمر
اِویں گذاری ہے، ہالے تک جیا نہیں
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل