اکھین
کنّے دور ہے، دل کنّے گیا نہیں
دِل
مجبور ہے، ہالے تک بُھلیا نہیں
توں
مِل ویجیں ہاں، زندگی بن ونجیں ہا
عمر
اِویں گذاری ہے، ہالے تک جیا نہیں
عادؔل
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment