اکھین
کنّے دور ہے، دل کنّے گیا نہیں
دِل
مجبور ہے، ہالے تک بُھلیا نہیں
توں
مِل ویجیں ہاں، زندگی بن ونجیں ہا
عمر
اِویں گذاری ہے، ہالے تک جیا نہیں
عادؔل
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment