Sunday, 17 November 2024

Ye Raat aur Tanhai (The night loneliness)


غزل

یہ رات یہ پاگل تنہائی

تیری یاد کی گونجے شہنائی


  ہجرکے تپتے صحرا میں

تیری زلف کی چھاؤں یاد آئی


ہونٹوں پہ تیرا نام آیا !

ویرانے میں جیسے بہار آئی


میرے ساتھ وہ ہر پل رہتا ہے

محفل ہو یا کہ تنہائی


کیسے کہوں بے وفا تجھ کو

منظور نہیں تیری رُسوائی


تیرے عشق نے کیاکیا نام دیٔے

پاگل، مجنوں، سودائی

عا د ل  



 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...