قطعہ
ہجر
کا بیقرار ستا رہ ہوں
درد
کی رات کا سویرا ہوں
سوچتا
رہتا ہوں میں یہ اکثر
روشنی
ہوں کہ اندھیرا ہوں
عادؔل
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment