جس آنکھ نے
دیکھا تجھے اُس آنکھ کو دیکھوں
ہے اِس کے سوا
کیا تیرے دیدار کی صورت
وؔاصف کو سرِ دَار
پُکارا ہے کسی نے
اِنکار کی صورت
ہے نہ اِقرار کی صورت
واصف ؔ
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment