جس آنکھ نے
دیکھا تجھے اُس آنکھ کو دیکھوں
ہے اِس کے سوا
کیا تیرے دیدار کی صورت
وؔاصف کو سرِ دَار
پُکارا ہے کسی نے
اِنکار کی صورت
ہے نہ اِقرار کی صورت
واصف ؔ
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment