Thursday, 16 June 2022

Mana teri nazar main

غزل

مانا تیری نظر میں تیرا پیار ہم نہیں

کیسے کہیں کے تیرے طلبگار ہم نہیں


خُود کو جلا کر راکھ بنایا ، مٹا دیا

لُو تمہاری راہ میں  دیوار ہم نہیں


جس کو نکھارا ہم نے تمناؤں کے خون سے

گلشن میں اُس بہار کے ،،حق دار ہم نہیں


دھوکا دیا ہے خُود کو  محبت کے نام پر

کیسے کہیں کہ تیرے  گنہگار ہم نہیں


نقش لائلپوری



 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل