Thursday, 26 October 2017

Zabar nahi Zair hoja

    جذب و مستی کی منزل کو پہنچتا ہے کوئی

بیٹھ کر دل میں انا لحق کی صدا دیتے ہو

خود ہی لگواتے ہو کفر کے فتوے اُس پر

خود ہی منصور کو سُولی پر چڑ ھا دیتے ہو

اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے

اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو














1 comment:

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...