تا حدِ نظر تک اے دلبر
ہم تیری زیارت کرتے ہیں
تیری صورت رکھ کر پیشِ نظر
ہم اپنی عبادت کرتے ہیں
جب غور کیا میں نے اِس پر
ہر چیز جہاں میں فانی ہے
ہر شئے کی طلب کو چھوڑ کےہم
بس تم سے محبت کرتے ہیں
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment