تا حدِ نظر تک اے دلبر
ہم تیری زیارت کرتے ہیں
تیری صورت رکھ کر پیشِ نظر
ہم اپنی عبادت کرتے ہیں
جب غور کیا میں نے اِس پر
ہر چیز جہاں میں فانی ہے
ہر شئے کی طلب کو چھوڑ کےہم
بس تم سے محبت کرتے ہیں
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment