Saturday, 2 March 2019

Neyat e Shouq ( Passion of love )

غزل

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دِل سے اُتر نہ جائےکہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گُذر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اُداس لوگوں  سے
حُسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رئیگاں یہ ہُنر  نہ جائے کہیں

آؤ کچھ دیر رُو ہی لیں ناؔصر
پھر یہ دریا اُتر نہ جائے کہیں



No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل