Friday, 10 November 2017

Shaam Kay BAAD


غزل
جب   شا م کا سایہ ڈھلتا ہے
اک شخص مجھے یاد آ تا ہے

بھیگیُ ر ت میں ساون کی طرح
میر ے دل میں وہ لہرا تا ھے

محفل ہو یا کے تنہائی
میرے ساتھ وہ ہر پل رہتا ہے

تیری یاد کا ہر اِک لمحہ
میری روح کو مہکا تا ہے

کیا بتلا ئیں ہجر کے غم
اک درد سا دل میں رہتا ہے

جس دن سے بچھڑا ہے عادؔل
ہر خواب ادھورا لگتا ہے
           




                                                                      

Wednesday, 8 November 2017

Waqt kay sitam


غزل

وقت نے جو کیٔے ستِم

 ٹوٹا ہے دل آنکھ ہے نَم

بہار بھی خزاں لگے
جب سے ہوے جدا صنم

کس کو دِکھاؤں داغِ دل
کوئی نہیں  میرا ہمدم

کانٹوں سے کو ئی گلہ نہیں
ہمیں د ئیے پھولوں نے زخم

دونوں مجھے عزیز ہیں
تیرا ِِستم  تیرا                     کرم

نقش ہیں  دل پر میرے
آج  بھی یادوں کے قدم

یہ زندگی ہے عادؔل یا تیری

اُ لجھی ہو ئی  زُلفوں کے خَم











Tuesday, 7 November 2017

Teray Gham ko


غزل

تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی تیرے جاں نثار چلے گئے
تیری راہ میں کرتے تھے سرطلب، سرِ رہگزار چلے گئے

تیری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی
میرے ضبطِ حال سے روٹھ کر میرے غم گسار چلے گئے

نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم،نہ حکایتیں، نہ شکایتیں
تیرے عہد میں* دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے

یہ ہمیں*تھے جن کے لباس پر سرِ راہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزم یار چلے گئے

نہ رہا جنونِ رخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں*جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے



https://www.youtube.com/watch?v=J0PgcLeh2g0










Monday, 6 November 2017

Chaak DiIl Bhi kabhi

چَاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے

رُوزو شب کے اِنہی ویرانوں میں
خواب کے پھُول تو کِھلتے ہوں گے

نَاز پروردہ تبسّم سے کہیں
سِلسلے درد کے مِلتے ہوں گے

صُبح زَنداں میں بھی ہوتی ہو گی
پُھول مَقتل میں بھی کھلتے ہوں گے

اجنبی شہر کی گلیوں میں ادؔا
دل کہاں لوگ ہی ملتے ہوں گے 











Saturday, 4 November 2017

Tasveer Yaar ki


غزل

چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہارکی
خُوشبو اُڑا کے لائی ہے گیسٔوۓِ یار کی


اللہ رکھے سلا مت اُس کا غرورِ حُسن
آنکھوں کو جِس نے دی ہے سزا نتظار کی

گلشن میں دیکھ کر میرے مَست شباب کو
شرمائی جا رہی ہے جوانی  بہار کی


اے حؔشردیکھنا تو یہ ہے چودھویں کا چاند
یا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی


آغا حؔشرکاشمیری













Thursday, 2 November 2017

Karb kay Lamhay


کرب کے لمحے

جب شام کے ساۓ ڈھلتے ہیں

جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں

اک پھانس سی دل میں چبھتی ہے

اک شُور سا دِل میں اُٹھتا ہے

میرے کمرے کی دیواروں پہ

وحشتیں رقص کرتی ہیں

مایوسیاں اور ویرانیاں

میرا منہ چڑاتی ہیں

ایسے میں دُھندلا پیکر

میری سسکیوں کو جنم دیتا ہے

رات کی بھیانک تارِیکیوں میں

نِیند کا جنگل پھیلا ہے

مگر میں نیند کہاں سے لاؤں

میری نیند یں تو لے گیا وہ

جس نے یہ رَت جاگے دیٔے

کَرب کے لمحے دیٔے

اُسے نہ بھُول پایا میں

اُسے نہ میں بھلاؤں گا

ایس تجمل عادؔل

http://stajamuladil.blogspot.com/







Wednesday, 1 November 2017

Teri Yaadain ( Your Memories )



تیری یادیں

جب شام کےساۓڈھلتے   ہیں

جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں

اک پھانس سی دل میں چبھتی ہے

اک شُورسا دل میں اُٹھتا ہے   

تیری یاد کے دیپ جلتے ہیں

تیری یاد اک سائباں کی طرح


میرے گرد چھائی رہتی ہے

پہروں تیری یاد میں اکثر


ہم خود سے لپٹ کے روتے ہیں

جب رُو رُو کے تھک جاتے ہیں


دلِ ویراں کی بستی میں

یادوں کی قندیلیں جالاتے ہیں


اور اُن میں کھو جاتے ہیں


عادؔل










Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...