Tuesday, 18 May 2021

Chura kay lay gaya ( The stolen wine )

غزل

چُرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑگیا

وہ ایک شخص مجھ کو اُداس چھوڑگیا


جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں

نہ جانے کیوں  مجھے بے لباس  چھوڑگیا


وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی

ذرا سا درد میرے دِل کے پاس چھوڑگیا


سُجھائی دیتا نہیں دُور تک کوئی منظر

وہ ایک دُھند میرے آس پاس چھوڑگیا


غزل سجاؤں  قتیلؔ اب اُسی کی باتوں سے

وہ مجھ میں اپنے سُخن کی مٹھاس  چھوڑگیا


قتیل ؔ شفائی


 

Sunday, 16 May 2021

Ajnabi shaher kay Ajnabi Rastay ( Stranger streets of a strange city )

غزل

اجنبی شہر کا اجنبی راستے ،

میری تنہائی پر مسکراتے رہے

میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا،

 تم بہت یاد آتے رہے


زہر ملتا رہا، زہر پیتے رہے،

روز مرتے رہے، روز جیتے رہے

زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی،

اور ہم بھی اُسے آزماتے رہے


زخم جب کوئی  ذہن و دِل پر لگا،

زندگی کی طرف اِک  دریچہ کُھلا

ہم بھی  گویا کسی ساز کے تار  ہیں،

چوٹ کھاتے رہے ، گنگناتے رہے


سخت حالات کے تیز طوفان میں،

 گھِرگیا تھا میرا جنوںِ وفا

ہم چراغِ تمنا جلاتے رہے،

 وہ چراغِ تمنا بجھاتے رہے


کل کچھ ایسا ہوا میں بہت تھک گیا،

اِس لئے سُن کے بھی اَن سُنی کر گیا

کتنی یادوں کے بھٹکے ہوئے کارواں،

دِل کے زخموں کے در کھٹکھا تے رہے 





 

Saturday, 15 May 2021

raat pheili hai tere sumahi ( The night is over your head )

غزل

رات پھیلی ہے تیرے سُرمئی آنچل کی طرح

چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح


خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں

شہر  بھی اب نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح


پھر  خیالوں  میں تیرےقُرب کی خوشبو جاگی

پھر برسنے لگی آنکھیں میری، بادل  کی طرح


بے وفاؤں سے وفا کرکے، گزاری ہے حیات

میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح


کلیم عثمانی




 

Sunday, 11 April 2021

Abhi Pehli Muhabbat ( Just first love )

نظم

ابھی پہلی محبت کے

بہت سے قرض باقی ہیں

ابھی پہلی مسافت کی

تھکن سے چور ہیں پاؤں

ابھی پہلی رفاقت  کا

ہر ایک گھاؤ سلامت ہے

ابھی مقتول  خوابو ں کو

بھی دفنایا نہیں ہم نے

ابھی آنکھیں ہیں عدت میں

ابھی یہ سوگ کے دن ہیں

ابھی اِس غم کی کیفیت سے

باہر کس طرح آئیں

ابھی اِس غم کو بھرنے  دو

ابھی کچھ دن گذرنے دو

یہ غم کے نیلگوں دریا

اُتر جائے تو سوچیں گے

ابھی یہ زخم تازہ ہیں

یہ بھر جائیں تو سوچیں گے

دوبارہ کب اُجڑنا ہے۔۔؟؟؟ 




 

Friday, 9 April 2021

Teray sewa kissi ko ( I don't know but only you )

غزل


تیرے سوا کسی کو پہچانتا نہیں

دِل میرا ہو کے مری مانتا نہیں


یہ آرزو ہے دِل کی تجھے دیکھتا رہے

مطلب ہے کیا ہنسی کا تری جانتا نہیں


دیوانگی میں بھول گیا اپنے آپ کو

اپنا پرایا کون ہے پہچانتا نہیں


جب سے ہوئی تم سے محبت تو دِل مرا

باتوں کا اب کسی کی بُرا مانتا نہیں


مدہوش رہتا ہے ترے جانے کے بعد بھی

کاؔوش اثر شراب کا کیا جانتا نہیں  


محمد حسین کاؔوش




 

Thursday, 8 April 2021

Libaas tan say ( Take off your clothes )

 نظم

لباس تن سے اُتار دینا

کسی کو بانہوں کے ہار دینا

پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

گناہ کرنے کا سوچ لینا

حسین پریاں دبوچ لینا

پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

کسی کو لفظوں کے جال دینا

کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا

پھر اُسکی عزت اُچھال دینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

اندھیر نگری میں چلتے جانا

حسین کلیاں مسلتے جانا

اور اپنی فطرت پہ مسکرانا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے۔







 

Sunday, 4 April 2021

Apni Pasand chore di ( Left your choice )

غزل

اپنی پسند چھوڑ دی اُس کی خرید لی

ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی


اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر

بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی


ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس

آئی تھی تیرے گاؤں سے، مہنگی خرید لی


ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس

اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید لی


تصویر اپنی خود ہی مصور کو بھا گئی

خود گیلری میں پیش کی خود ہی خرید لی


اے ہجر زاد تم کو بھی ہے آرزوئے وصل

اے دشت زاد تم نے بھی کشتی خرید لی


پارس مزاری



 

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...