Saturday, 15 May 2021

raat pheili hai tere sumahi ( The night is over your head )

غزل

رات پھیلی ہے تیرے سُرمئی آنچل کی طرح

چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح


خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں

شہر  بھی اب نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح


پھر  خیالوں  میں تیرےقُرب کی خوشبو جاگی

پھر برسنے لگی آنکھیں میری، بادل  کی طرح


بے وفاؤں سے وفا کرکے، گزاری ہے حیات

میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح


کلیم عثمانی




 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل