Thursday, 20 May 2021

Na socha tha dill ( Didn't think of it before )

غزل

نہ سوچا تھا یہ دِل لگانے سے پہلے

کہ ٹوٹے گا دِل لگانے سے پہلے


اُمیدوں کا سورج نہ چمکا نہ ڈوبا

گہن پڑ گیا جگمگانے سے پہلے


اگر غم اُٹھا نا تھا قسمت میں اپنی

خوشی کیوں ملی غم اُٹھانے سے پہلے


کہو بجلیوں سے نہ دِل کو جلائیں

مجھے پھونک دیں گھر جلانے سے پہلے


شکیلؔ بدایونی



 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل