تمہارے ساتھ
رہوں تو کمال ہو جاؤں
بس ایک پل کے لئے تم میرے قریب آؤ
میں ایک پَل کے لئے لا جواب ہو جاؤں
تمہارے ساتھ
رہوں تو کمال ہو جاؤں
بس ایک پل کے لئے تم میرے قریب آؤ
میں ایک پَل کے لئے لا جواب ہو جاؤں
چاند سی لڑکی
سنو اے چاند سی
لڑکی
ابھی تم کہہ رہی
تھی نا---
کہ تمہیں مجھ سے
محبت ہو نہیں سکتی---
چلو مانا کہ یہ
سچ ہے---
مگر اے چاند سی
لڑکی---
مجھے اتنا بتاؤ تم---
کہ جب موسم بدلتے ہیں---
گُلوں میں رنگ
بھرتے ہیں---
تو پھر کیوں
مضطرب ہو کر---
اکیلے پن سے
گھبرا کر---
ہوا کو راز دیتی
ہو---
مجھے آواز دیتی
ہو---
تمھارے سامنے جب
کوئی---
میرا نام لیتا
ہے---
تو پھر کیوں
چونک جاتی ہو---
چلو مانا کہ
تمہیں مجھ سے محبت ہو نہیں سکتی---
مگر اتنا سمجھ
لو تم ---
جہاں چاہت نہیں
ہوتی---
وہاں نفرت کے
ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا—
مگر دعویٰ ہے
چاہت میں ---
جہاں نفرت نہیں
ہوتی---
وہاں اکثر یہ
دیکھا ہے---
اگر کچھ وقت کٹ
جائے—
سمے کی دُھول
چھٹ جائے--
تو وحشت بھاگ
جاتی ہے--
محبت جاگ جاتی ہے---
کیا تم سمجھتے ہو
محبت کیا ہے؟
جب تم کسی سے ٹوٹ کر پیار کرو اور وہ تمہیں اپنی زندگی سے نکال دے، اور تم اپنے دل کی
چیرتی ہوئی تکلیف کے با وجوداُسے لبیک کہو! جب وہ تمہیں بنا کسی قصور کے نظر انداز کرے،
اور تم اُس پر صبر کرلو ، اور تمہاری سوچیں اب بھی اُس کے خلاف نہ ہوں ، جب اُس ہر جائی
کے خلاف کچھ بولنا چاہو تو تمہاری زُبان رُک جائے، اور ہاتھ کچھ لکھنا چاہیں تو شَل ہو جائیں، اور
جب کوئی اُس کے خلاف کچھ بولے تو تم کو بُرا لگے اور تم اُس سے لڑ جاؤ ، کبھی بھی کسی کو اپنے
پیار کی حُرمت کو پامال مت کرنے دینا،محبت میں نے بھی تو کی تھی، اگر اُس بے وفا کو محبت نبھانا
نہیں آئی تو کیا ہوا، میں تو اپنی محبت کو نہیں چھوڑ سکتا، محبت کرنے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے
ہیں، محبت قُربانی مانگتی ہے، کبھی رُوح کی ، کبھی جان
کی اور کبھی خواہشات کی۔۔
غزل
وعدہِ حور پہ بہلائے
ہوئے لوگ ہیں ہم
خاک بولیں گے دَفنائے
ہوئے لوگ ہیں ہم
یوں ہر ایک ظلم
پہ دَم سادھے کھڑے ہیں
جیسے دیوار میں
چُنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
اُس کی ہر بات
پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں
زر کی جھنکار پہ
بُلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
جس کا جی چاہے
وہ اُنگلی پہ نچا لیتا ہے
جیسے بازار سے
منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
ہنسی آئےبھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی یوں تیرے
زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم
آسمان اپنا ، نہ
زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر
جانے کس بات پہ
اِترائے ہوئے لوگ ہیں ہم
جس طرح چاہے
بنا لے ہمیں وقت قتیلؔ
درد کی آنچ پہ
پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
قتیل شفائی
غزل
سزا پہ چھوڑ دیا
۔۔ کچھ جزا پہ چھوڑ دیا
ہر ایک کام کو
میں نےخُدا پہ چھوڑ دیا
وہ مجھ کو یاد
رکھے گا یا پھر بُھلا دے گا
اُسی کا کام تھا
، اُس کی رَضا پہ چھوڑ دیا
اب اُس کی مرضی جلائےیا
پھر بجھائےرکھے
چراغ ہم نے جلا
کے ہوا پہ چھوڑ دیا
اُس سے بات بھی
کرتے تو کس طرح کرتے
یہ مسئلہ تھا اَنا
کا۔۔۔ اَنا پہ چھوڑ دیا
اِسی لیئے تو وہ
کہتے ہیں بے وفا ہم کو
کہ ہم نے سارا
زمانہ وفا پہ چھوڑ دیا
نا معلوم
غزل
قُرب کے نہ وفا
کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انّا
کے ہوتے ہیں
بات نیت کی ہے
صرف ورنہ
وقت سارے دُعا کے
ہوتے ہیں
بھول جاتے ہیں
مت بُرا کہنا
لُوگ ُ پتلے
خطا کے ہوتے ہیں
وہ جو بظاہر کچھ
نہیں لگتے
اُن سے رشتے بلا
کے ہوتے ہیں
وہ ہماراہے اِس
طرح سے فیضؔ
جیسے بندے خُدا
کے ہوتے ہیں
غزل
مانا تیری نظر
میں تیرا پیار ہم نہیں
کیسے کہیں کے
تیرے طلبگار ہم نہیں
خُود کو جلا کر
راکھ بنایا ، مٹا دیا
لُو تمہاری راہ
میں دیوار ہم نہیں
جس کو نکھارا ہم
نے تمناؤں کے خون سے
گلشن میں اُس
بہار کے ،،حق دار ہم نہیں
دھوکا دیا ہے خُود
کو محبت کے نام پر
کیسے کہیں کہ
تیرے گنہگار ہم نہیں
نقش لائلپوری
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...