Monday, 19 February 2018

Chand ki Zaibai



آپ کی صورت دیکھ کر احساس ہو تا ہے مجھے
تیرے حُسن میں پنہاں،چاند کی زیبائی ہے

نظر آتی نہیں کوئی وصل کی صورت عادل
شام ہے،ہجر ہے، اور چار سو تنہائی ہے



Sunday, 18 February 2018

Maqaam e Ishq

غزل

تیرے عشق نے ایسا مجھے مقام دیا
ہر ایک شخص کے دل میں قیام دیا

میں سوچتا ہوں توہو جا تا ہے عطا
تیری رضانے مجھے ایسا انعام دیا

ہے مجھ پہ عنایت خاص اُن کی
تیری نظر نے مجھے فیضِ عام دیا

 ملا نہ ہم کو  اگر ساتھ تیراجاناں
 کبھی نہ اپنی قسمت کو الزام دیا

یہ معجزہ ہے تیرے عشق کا عاؔدل
میری حیات کو  ابد تک دوام دیا






Saturday, 17 February 2018

Hum Tum Hongay



غزل
ہم تم ہوں گے بادل ہو گا
رقص میں سارا جنگل ہو گا

وصل کی شب اور اتنی کالی
اُن آنکھوں میں کا جل ہو گا

کس نے کیا مہمیز ہوا کو
شاید اُن کا آنچل ہو گا

پیا ر کی راہ پہ چلنے والو!
رَستہ سارا دلدل ہو گا





Wednesday, 14 February 2018

Mehboob ka jalwa



ہر جلوے میں محبوب کا جلوہ نظر آئے
جاؤں میں کہیں بھی تیرا سایہ نظر آئے

وُسعت میری نظر کو عادؔل اتنی عطا ہو
دیکھوں  میں خود کوتو تیرا سراپا نظر آۓ

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

بچھڑا ہے جو اِک بارتوملتے نہیں دیکھا
اِس زخم کوہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

اِک بار جسے چاٹ گئی دُھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اُس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح کوہری کر گیا آخر
وہ زہر  جسے جسم میں گھلتے نہیں دیکھا
پروین شاکرؔ




Thursday, 8 February 2018

Sanam Khanay Mian


غزل
نہ وہ مسجد میں نہ وہ صنم خانےمیں
لُطف ملتا ہےجو تیرے میخانے میں

تیری نگاہِ کرم مجھ پہ ہے  اِے ساقی
وگر نہ کون سی خوبی ہے مجھ دیوانے میں

میں نے اپنا گھر  گلی کو چے سجا رکھے ہیں
کاش! آئیں وہ چانک میرے کا شانے میں

کیسے سمجھوںمیں تمھیں دُور ائے حبیب
تو ہی رہتا ہے میرے دل کے خانے میں

گنتا رہتا ہوں تیری یاد میں تارے اکثر
کتنے دن بیت چکے ہیں تیرے آنے میں

جب بھی پیتا ہوں پینے سے  پہلے مجھ کو
عکس تیرا نظر آتا ہے پیما نے میں

اب مجھے اور نہ تڑ پاؤ قریب   آؤ میرے
ہاتھ آئے گا تجھے کیا میرے تڑ پانے میں

عرض عاؔدل کو شرفِ قبولیت بخشو!
میری مجبوریاں ظاہر ہیں میرے افسانے میں 





Tanha Tanha

غزل

تنہا تنہا، بکھرا بکھرا رہتا ہوں
اپنے گھر میں سہما سہما رہتا ہوں

کوئی نہیں سنسارمیں میرے درد کا درماں
درد اِسی میں دم دم چیختا رہتا ہوں

چھوڑ گیا جوسنگدل مجھ کو پھر بھی میں
یا د میں اُس کی واللہ کھویا رہتا ہوں

دل بے چین کو چین کہاں آرام کہاں
گلیوں میں آوارہ بھٹکتا رہتا ہوں

ٹوٹ جائے نہ رشتہِ اُلفت فکر اسی میں
پیا رکی آگ میں اکثر جلتا   ُ رہتا ہوں

ہجر حریف سے تنگ آ کر روز و شب
وصل کی ہر دم دعائیں مانگتا رہتا ہوں

عاؔدل اپنے ہاتھوں قلم سے میں
حُسن  عشق کی غزلیں لکھتا رہتا ہوں




Wednesday, 7 February 2018

Ishq Barbad


غزل
اے عشق ہمیں بربا د نہ کر
ہیں شاد بہت،نا شاد نہ کر

 یادوں میں اپنی رہنے دو
اِس قید سے ہمیں آزاد نہ کر

اپنوں نے کتنے زخم دئیے
اِ س بات کو اے دل یاد نہ کر

آنکھوں کو بہت رُلاتے ہیں
 محبوب سےکوئی فریا دمیں  نہ کر

دل توڑ کے جاتے ہیں عاؔدل
سنگدل سے دل آباد نہ کر

Ghazal
O Love! do not destroy us
Are you very happy, do not be sad
Let me live in memories
Do not free us from this prison
How many wounds did I have?
Do not miss your heart
The eyes are very loud
Do not tear the beloved from the beloved
Heart goes to Adil
Do not settle down with a serpent

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...