Sunday, 11 April 2021

Abhi Pehli Muhabbat ( Just first love )

نظم

ابھی پہلی محبت کے

بہت سے قرض باقی ہیں

ابھی پہلی مسافت کی

تھکن سے چور ہیں پاؤں

ابھی پہلی رفاقت  کا

ہر ایک گھاؤ سلامت ہے

ابھی مقتول  خوابو ں کو

بھی دفنایا نہیں ہم نے

ابھی آنکھیں ہیں عدت میں

ابھی یہ سوگ کے دن ہیں

ابھی اِس غم کی کیفیت سے

باہر کس طرح آئیں

ابھی اِس غم کو بھرنے  دو

ابھی کچھ دن گذرنے دو

یہ غم کے نیلگوں دریا

اُتر جائے تو سوچیں گے

ابھی یہ زخم تازہ ہیں

یہ بھر جائیں تو سوچیں گے

دوبارہ کب اُجڑنا ہے۔۔؟؟؟ 




 

Friday, 9 April 2021

Teray sewa kissi ko ( I don't know but only you )

غزل


تیرے سوا کسی کو پہچانتا نہیں

دِل میرا ہو کے مری مانتا نہیں


یہ آرزو ہے دِل کی تجھے دیکھتا رہے

مطلب ہے کیا ہنسی کا تری جانتا نہیں


دیوانگی میں بھول گیا اپنے آپ کو

اپنا پرایا کون ہے پہچانتا نہیں


جب سے ہوئی تم سے محبت تو دِل مرا

باتوں کا اب کسی کی بُرا مانتا نہیں


مدہوش رہتا ہے ترے جانے کے بعد بھی

کاؔوش اثر شراب کا کیا جانتا نہیں  


محمد حسین کاؔوش




 

Thursday, 8 April 2021

Libaas tan say ( Take off your clothes )

 نظم

لباس تن سے اُتار دینا

کسی کو بانہوں کے ہار دینا

پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

گناہ کرنے کا سوچ لینا

حسین پریاں دبوچ لینا

پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

کسی کو لفظوں کے جال دینا

کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا

پھر اُسکی عزت اُچھال دینا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

اندھیر نگری میں چلتے جانا

حسین کلیاں مسلتے جانا

اور اپنی فطرت پہ مسکرانا

اگر محبت یہی ہے جاناں

تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے۔







 

Sunday, 4 April 2021

Apni Pasand chore di ( Left your choice )

غزل

اپنی پسند چھوڑ دی اُس کی خرید لی

ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی


اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر

بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی


ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس

آئی تھی تیرے گاؤں سے، مہنگی خرید لی


ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس

اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید لی


تصویر اپنی خود ہی مصور کو بھا گئی

خود گیلری میں پیش کی خود ہی خرید لی


اے ہجر زاد تم کو بھی ہے آرزوئے وصل

اے دشت زاد تم نے بھی کشتی خرید لی


پارس مزاری



 

Thursday, 25 March 2021

Jab Mujhay jurm e muhabat ( Offenses will be forgiven Love )


غزل

جب  مجھے جُرمِ محبت کی معافی ہو گی

تب مری عمر اِرادوں کے منافی ہو گی


ہم پہ لازم ہے سدا اُن ہو صدائیں دینا

وہ پُکاریں گے تو یہ وعدہ خلافی ہو گی


اُس کے میخانے میں ہم بادہ پرستوں کے لیے

نہ ملا جام تو بس پیاس  ہی کافی ہو گی


ہم نے تیشے سے پہاڑوں کا  بھرم رکھا ہے

ورنہ اُن کے لیے اک آ ہ بھی کافی ہو گی


موت اپنی تو کئی بار مر چُکے ہیں ہم

اب ہمیں موت جو آئی تو اِضافی ہو گی


اپنے نقصان پہ یہ سوچ کے خوش ہوں عابدؔ

میرے نقصان سے اوروں کی تلافی ہو گی


عابدؔ بنوی



 

Wednesday, 24 March 2021

Lazim nahi kay ( He doesn't think of me )

غزل


لازم نہیں کہ اُس کو میرا خیال ہو

جو میرا حال ہے وہی اُس کا حال ہو


باتیں تو ہوں کچھ تو دِلوں کی خبر  ملے

آپس میں اپنے کچھ تو جواب وسَوال ہو


رہتے ہے آج جس میں جسے دیکھتے ہیں ہم

ممکن ہے یہ گزشتہ کا خواب و خیال ہو


سب شور شہرِ خاک کا ہے قرب ِآب سے

پانی نہ ہو تو شہر کا جینا مُحال ہو


معدوم ہوتی جاتی ہوئی شے ہے یہ جہاں

ہر چیز اِس کی جیسے  فنا کی مثال ہو


کوئی خبر خوشی کی کہیں سے ملے منیرؔ

اِن روزوشب میں ایسا بھی اک دِن کمال ہو


منیرؔ نیازی



 

Tuesday, 23 March 2021

Hisab e Umar ka ( The Account of Age )


غزل


حسابِ عمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے

تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے


کسی چراغ میں ہم ہیں ، کسی کنول میں تم

کہیں جمال تمہارا ، کہیں ہمارا ہے


وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں

تمام عمر کی فُرقت ہمیں گوارا ہے


وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں

ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے


عجب اُصول ہیں اِس کاروبارِ دُنیا کے

کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے


نجانے کب تھا ! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے

یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گُذارا ہے


یہ دو کنارے تو دریا کے ہوگئے ، ہم تم

مگر یہ کون ہے جو تیسرا کنارہ  ہے


امجد اسلام امجدؔ



 

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...