زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
ہر لمحہ ہر حساب
میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عبادت جو کرتے
ہیں جنت کی چاہ میں
اُ ن کے ہر ثواب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عادلؔ
زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
ہر لمحہ ہر حساب
میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عبادت جو کرتے
ہیں جنت کی چاہ میں
اُ ن کے ہر ثواب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عادلؔ
جس آنکھ نے
دیکھا تجھے اُس آنکھ کو دیکھوں
ہے اِس کے سوا
کیا تیرے دیدار کی صورت
وؔاصف کو سرِ دَار
پُکارا ہے کسی نے
اِنکار کی صورت
ہے نہ اِقرار کی صورت
واصف ؔ
مفلس جو اپنے تن
کی قبا بیچ رہا ہے
واعظ بھی تو
ممبر پے دُعا بیچ رہا ہے
دونوں کو درپیش
مسائل اپنے شکم کے
وہ اپنی خودی
اپنا خدا بیچ رہا ہے
غزل
جب شا م کا سایہ ڈھلتا ہے
اک شخص مجھے یاد
آ تا ہے
بھیگیُ ر ت میں
ساون کی طرح
میر ے دل میں وہ
لہرا تا ھے
محفل ہو یا کے
تنہائی
میرے ساتھ وہ ہر
پل رہتا ہے
تیری یاد کا ہر
اِک لمحہ
میری روح کو
مہکا تا ہے
کیا بتلا ئیں
ہجر کے غم
اک درد سا دل
میں رہتا ہے
جس دن سے بچھڑا
ہے عادؔل
ہر خواب ادھورا
لگتا ہے
عادل
غزل
یہ رات یہ پاگل
تنہائی
تیری یاد کی
گونجے شہنائی
ہجرکے تپتے صحرا میں
تیری زلف کی
چھاؤں یاد آئی
ہونٹوں پہ تیرا
نام آیا !
ویرانے میں جیسے
بہار آئی
میرے ساتھ وہ ہر
پل رہتا ہے
محفل ہو یا کہ
تنہائی
کیسے کہوں بے
وفا تجھ کو
منظور نہیں تیری
رُسوائی
تیرے عشق نے
کیاکیا نام دیٔے
پاگل، مجنوں،
سودائی
عا د ل
غزل
وقت نے جو کیٔے
ستِم
ٹوٹا ہے دل آنکھ
ہے نَم
بہار بھی خزاں
لگے
جب سے ہوے جدا
صنم
کس کو دِکھاؤں
داغِ دل
کوئی نہیں میرا ہمدم
کانٹوں سے کو ئی
گلہ نہیں
ہمیں د ئیے
پھولوں نے زخم
دونوں مجھے عزیز
ہیں
تیرا ِِستم تیرا کرم
نقش ہیں دل پر میرے
آج بھی یادوں کے قدم
یہ زندگی ہے
عادؔل یا تیری
اُ لجھی ہو
ئی زُلفوں کے خَم
زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے ہر لمحہ ہر حساب میں خسارہ ہی خسارہ ہے عبادت جو کرتے ہیں جنت کی چاہ میں اُ ن کے ہر ثواب میں خسارہ ...