غزل
جو ملا اُس سے
گزارا نہ ہوا
جو ہمارا تھا ، وہ ہمارا نہ ہوا
ہم کسی اور سے
منسوب ہوئے
کیا یہ نقصان
تمہارا نہ ہوا
خَرچ ہوتا رہا
محبت میں
پھر بھی اِس دِل
کو خسارہ نہ ہوا
دونوں ایک دوسرے
پہ مرتے رہے
کوئی اللہ کو
پیارا نہ ہوا
طاہر فراز
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment