غزل
جو ملا اُس سے
گزارا نہ ہوا
جو ہمارا تھا ، وہ ہمارا نہ ہوا
ہم کسی اور سے
منسوب ہوئے
کیا یہ نقصان
تمہارا نہ ہوا
خَرچ ہوتا رہا
محبت میں
پھر بھی اِس دِل
کو خسارہ نہ ہوا
دونوں ایک دوسرے
پہ مرتے رہے
کوئی اللہ کو
پیارا نہ ہوا
طاہر فراز
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment