کاش آجائے ، وہ مجھے جان سے گذرتے دیکھے
اُس کی خواہش
تھی، کبھی مجھ کو بکھرتے دیکھے
وہ سلیقے سے
ہوئے ہم سے گریزاں ورنہ !
لوگ تو صاف محبت
میں مُکرتے دیکھے
وقت ہوتا ہے ہر
ایک زخم کا مرہم محسنؔ
پھر بھی کچھ زخم
تھے ایسے جو نہ بھرتے دیکھے
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment