کاش آجائے ، وہ مجھے جان سے گذرتے دیکھے
اُس کی خواہش
تھی، کبھی مجھ کو بکھرتے دیکھے
وہ سلیقے سے
ہوئے ہم سے گریزاں ورنہ !
لوگ تو صاف محبت
میں مُکرتے دیکھے
وقت ہوتا ہے ہر
ایک زخم کا مرہم محسنؔ
پھر بھی کچھ زخم
تھے ایسے جو نہ بھرتے دیکھے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment