ظاہر غمِ جاناں کا اثر ہونے
نہ دینگے
روئیں مگر آنکھ بھی تر ہونے نہ دینگے
دیکھیں گے انہیں بس محبت سےہم
محسوس محبت کی نظر ہونے نہ
دینگے
اِس دورِ حوادث اے جانِ
بہاراں
ویراں تیری یادوں کا نگر ہونے
نہ دینگے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment