نہ تم آئے شبِ وعدہ پریشاں
رات بھر رکھا
دِیا اُمید کا میں نے جلائے
تا سحر رکھا
کوئی اُس طائرِ مجبور کی بے
چارگی دیکھے
قفس میں بھی جسے صیاد نے بے بال و پَر رکھا
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment