اَب لفظ و بیاں سب ختم ہوئے
اَب لفظ وبیاں کا کام نہیں
اب عشق ہے خود پیغام اپنا
اور عشق کا کچھ پیغام نہیں
کیا کہوں کس سے کہوں
کیسے کہوں کیونکر کہوں
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment