Friday, 5 July 2019

Kabhi Khud pay Kabhi Halaat pay ( Sometimes there is a situation in the world )


غزل

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر بات   پہ  رونا آیا

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں اُن کو
کیا ہوا آج  یہ کس بات پہ رونا آیا

کس لیے جیتے ہیں، ہم کس لیے جیتے ہیں
بارہا  ایسے  سوالات  پہ رونا آیا

کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات  پہ رونا آیا

ساحرؔ لد ھیانوی


No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...