Monday, 29 July 2019

Jaan say peyara koi ( Someone Love you )


غزل

نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اِشارہ کوئی
کیسے اُمید   کا    چمکے گا   ستارہ   کوئی

حد سے زیادہ نہ کسی سے محبت کرنا
جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی

بے وفائی کے سِتم  تم کو سمجھ آ جاتے
کاش! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی

چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پوچھا ہے
کیا کَہیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی

سب تعلق ہیں ضرورت کے یہاں پر مُحسنؔ
نہ کوئی دوست ، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی

مُحسن نقوی




No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل