محبت
جن سے ہوتی ہے،اُن کی شکایت مار دیتی ہے
نفر
ت میں کو ئی نہیں مرتا، محبت مار دیتی ہے
سمجھ
آتی ہے مجھ کو لوگوں کے رویوں کی لہجوں کی
چُپ
رہتا ہوں میں عادلؔ ، شرافت مار دیتی ہے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment