Monday, 16 September 2019

Chand ko bulla lounga ishara kar kay ( My love glory)

غزل

تیری ہر بات محبت میں گوارہ کر کے
دِل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذِکر تمھارا کرکے

ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اُسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اِشارہ کرکے

آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہےمیں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے

میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس میں
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کرکے

مُنتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پہ بُلا لوں گا اِشارہ کرکے

راحت اندوری





No comments:

Post a Comment

Poor seller

مفلس جو اپنے تن کی قبا بیچ رہا ہے واعظ بھی تو ممبر پے دعا بیچ رہا ہے دونوں کو درپیش مسائل اپنے شکم کے وہ اپنی خودی اپنا خدا بیچ رہا ہے