نظم
تیرے
نام سے محبت کی ہے
تیرے
احساس سے محبت کی ہے
تم
میرے پاس نہیں پھر بھی
تمہاری
یاد سے محبت کی ہے
کبھی
تم نے بھی یاد کیا ہو گا
اُن
لمحات سے محبت کی ہے
تم
سے ملنا تو ایک خواب ہوا
تیرے انتظار سے محبت کی ہے
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment