نظم
تیرے
نام سے محبت کی ہے
تیرے
احساس سے محبت کی ہے
تم
میرے پاس نہیں پھر بھی
تمہاری
یاد سے محبت کی ہے
کبھی
تم نے بھی یاد کیا ہو گا
اُن
لمحات سے محبت کی ہے
تم
سے ملنا تو ایک خواب ہوا
تیرے انتظار سے محبت کی ہے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment