Thursday, 24 June 2021

Wafa Iss ko nahi kehtay ( Loyalty is not called that)

غزل

وفا اِس کو نہیں کہتے، وفا کچھ اور ہوتی ہے

محبت کرنے والوں کی، ادا کچھ اور ہوتی ہے


تمہیں دیکھا تمہیں چا ہا، تمہیں سے پیار کر بیٹھے

سنو پتھر کے دل والو، محبت ایسی  ہوتی ہے


اگر چہ غم کا مارا ہوں، مگر تم کو نہیں بھولوں گا

کہ دیوانوں کے ہونٹوں پہ، دُعا کچھ اور ہوتی ہے


تڑپ اُٹھے گی یہ دُنیا، اگر روئے گا دِل میرا

کہ دل سے جو نکلتی ہےوہ، صدا کچھ اور ہوتی ہے 





 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...