Tuesday, 15 June 2021

Tum apna runj o ghum ( Gave me your grief and sorrow )

غزل

تم اپنا رنج وغم اپنی پریشانی مجھے دے دو

تمہیں غم کی قسم اِس دل کی ویرانی مجھے دےدو


مانا میں کسی قابل نہیں ہوں اِن نگاہوں کے

بُرا کیا ہےاگر یہ دُکھ یہ حیرانی   مجھے دےدو


میں دیکھوں تو سہی دُنیا تمہیں کیسے ستاتی ہے

کوئی دِن کے لئے اپنی نگہبانی مجھے دےدو


وہ دِل جو میں نے مانگا تھا مگر غیروں نے پایا

بڑی شے ہے اگر اُس کی پشیمانی مجھے دےدو


ساحر لدھیانوی




 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل