غزل
خُدا ہم کو ایسی
خُدائی نہ دے
کہ اپنے سِوا
کچھ دِیکھائی نہ دے
خطا وار سمجھے
گی دُنیا تجھے
اب اتنی زیادہ
صفائی نہ دے
ہنسو آج اتنا کہ
اِس شور میں
صَدا سسکیوں کی
سُنائی نہ دے
خُدا ایسے احساس
کا نام ہے
رہے سامنے اور
دکھائی نہ دے
بشیر بدرؔ
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment