غزل
خُدا ہم کو ایسی
خُدائی نہ دے
کہ اپنے سِوا
کچھ دِیکھائی نہ دے
خطا وار سمجھے
گی دُنیا تجھے
اب اتنی زیادہ
صفائی نہ دے
ہنسو آج اتنا کہ
اِس شور میں
صَدا سسکیوں کی
سُنائی نہ دے
خُدا ایسے احساس
کا نام ہے
رہے سامنے اور
دکھائی نہ دے
بشیر بدرؔ
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment