Friday, 1 December 2017

Ishq Da Rutba


رتبہ، منصب،ذات نہ لکھنا، نام،مقام نہ لکھنا
عشق کرو تو دانہ لکھنا، لیکن دام نہ لکھنا
لکھنا دل کی دھڑ کن دھڑ کن اُس کے نام عطؔا!
لیکن اُس کا شہر نہ لکھنا اُس کا نام نہ لکھنا

سمجھ سکے نہ لوگ سیانے
عشق دا رُتبہ عشق ہی جانے

جلا وہ آگ محبت کی میرے سینے میں
کہ خیال غیر کا آئے تو خاک ہوجاؤں

عشق وہ ساتویں حِس ہے کہ عطا ہو جسکو
رنگ سُن جاویں اُسے،خوشبو دکھائی دیوے
















No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...