Sunday, 31 December 2017

Muhabat Kay Beaj ( Love Seeds )



تجھے میں دل سے بُھلاؤں کیسے

ہے نقش پختہ مٹاؤں کیسے

تمہیں سےآباد دل ہے میرا

جو رُوٹھو عاؔدل مناؤں کیسے

عاؔدل

؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀

بے لوث،پُر خلوص،مہربان دوست

ملتے ہیں زندگی میں یارو کبھی کبھی

؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀

نفرت کے بارُود پہ بیٹھی ہوئی دنیا

محبت کے بیج بونا چاہتی ہے نگر نگر














No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل