Saturday, 16 December 2017

Rahi Muhabat kay

محبت کے راہی زرا سنبھل کے چلنا
اِس راستے میں بہت کرب و بلا ہے

مٹ گئے کئی عاشق راہِ وفا میں!

ملی نہ اب تک منزلِ عشق و وفا ہے

$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$

اب کیا کہوں کہ تجھ کو محبت نہیں رہی

تیری طلب میں پہلی سی شدّت نہیں رہی

یا تو تیری وفاؤں کا موسم گذر گیا

یا یہ کہ تجھ کو میری ضرورت نہیں رہی


























No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل