Friday, 19 February 2021

Lafzon ki tarah mujh say ( To meet me like words )


غزل


لفظوں کی طرح مجھ سے، کتابوں میں ملا کر

دُنیا کا تجھے ڈر ہے ، تو خوابوں میں ملا کر


پھولوں سے تو خوشبو کا ، تعلق ہے ضروری

تو مجھ سے مہک بن کے، گلابوں میں ملا کر


ساغر کو میں چُھو کر تجھے محسوس کروں گا

مستی کی طرح مجھ سے شرابوں میں ملا کر


میں بھی ہوں بشر، مجھ کو بہکنے کا بھی ڈر ہے

اِس واسطے تو مجھ سے، حجابوں میں ملا کر!!




 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل