Monday, 1 February 2021

Phir tera zikr ( Then you take the heart )


غزل

پھر تیرا ذکر دِل سنبھال گیا

ایک ہی پل میں سب ملال گیا


ہو لیئے ہم بھی اِس طرف جاناں

جس طرف بھی تیرا خیال گیا


آج پھر تیری یاد مانگی تھی

آج پھر وقت ہم کو ٹال گیا


تو دسمبر کی بات کرتا ہے

اور ہماراتو سارا سال گیا


تیرا ہوتا تو پھٹ گیا ہوتا

میرا دِل تھا جو غم کو پال گیا


کون تھا وہ کہاں سے آیا تھا

ہم کو کن چکروں میں ڈال گیا



 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...