Thursday, 18 February 2021

Youn tu kehnay ko ( Many people know me )


غزل


یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے

کہاں لے جاؤں تجھے اِے دلِ تنہا میرے


وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا

یہی احباب میرے ہیں ، یہی اعدا میرے


مجھ کو اِس ابرِ بہاری سے کب کی نسبت

پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے


دیدہ و دل تو تیرے ساتھ ہیں اے جانِ فرازؔ

اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے


احمد فرازؔ




 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...