Thursday, 24 January 2019

Ishq Ka Nissab ( Love Syllabus )


غزل

عشق نے جو نصاب لکھے ہیں

رنج واَلم بے  حساب لکھے ہیں

چھین کر ہونٹوں سے ہنسی

اشک بے حساب لکھے ہیں

بُھول کر لیا کبھی  خوشی کانام

زندگی نے عتاب لکھے ہیں

کیسے دیکھوں میں جلوہ عادلؔ

حُسن میں تو  حجاب لکھےہیں

تیری محبت کی چاندنی   نے

آنکھ میں   خواب لکھے ہیں

تیری نظر کا ہے جادوعادلؔ

 دل میں انقلاب لکھے ہیں



No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...