Friday, 25 January 2019

Peyar Kartay hain ( Love you )

غزل

ہم حسینوں سے پیار کرتے ہیں

جان ودل سب نثار کرتے ہیں

ہم کو آتا ہے انتظار میں لُطف

شب کےتارے  شمار کرتے ہیں

اُس کی رحمت  شمار کرلیں گے

ہم گناہ بے شمار کرتے ہیں

آپ پر اعتماد ہے ہم کو

آپ پر اعتبار کرتے ہیں

حالتِ غم میں بھی ہیں خوش صوفیؔ

زندگی خوش گوار کرتے ہیں



No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل