Saturday, 12 September 2020

Insaaf zalmoo ki ( Justice of the oppressors )

غزل

انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا

یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا


دستار نوچ نوچ کر احباب لے اُڑے

سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا


دوزخ کے انتظام میں اُلجھا ہے رات دِن

دعوٰی یہ کر رہا ہے کہ جنّت میں جائے گا


خوش فہمیوں کی بھیڑ میں تو بھول کیوں گیا

پہلے مرے گا بعد میں جنّت میں جائے گا


واقف ہے خوب جھوٹ  کے فن سے  یہ آدمی

یہ آدمی ضرور سیا ست میں جائے گا


راحت ؔ اندوری 



 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...