Thursday, 24 September 2020

Lafzoon ki trah ( To meet like Words )

غزل

لفظوں کی طرح مجھ سے ، کتابوں میں ملا کر

دُنیا کا تجھے ڈر ہے، تو خوابوں میں ملا کر


پھولوں  سے  تو خوشبو کا، تعلق ہے ضروری

تو مجھ سے مہک بن کے، گلابوں میں ملا کر


ساغر کو میں چھو کر، تجھے محسوس کرونگا

مستی کی طرح مجھ سے شرابوں میں ملا کر


میں بھی ہوں بشرمجھ کو بہکنے کا  بھی ڈر ہے

اِس واسطے تو مجھ سے حجابوں میں ملا کر


 

1 comment:

  1. Beautiful poetry. Can you please share the name of the poet?

    ReplyDelete

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل