یہ عشق ایک جُوا
ہے ، بتاؤ کھیلو گے
سمجھ لُو دَاؤ
پہ سب کچھ لگانا پڑتا ہے
ہر آدمی سے
طبعیت تو مل نہیں سکتی
مگر یہ ہاتھ تو پھر بھی ملانا پڑتا ہے
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment