نظم
بہت ہی مان ہے
تم پر
سنو پاسِ وفا
رکھنا
سبھی سے تم ملو
لیکن
ذرا سا فاصلہ
رکھنا
بچھڑ جانا بھی
پڑتا ہے
ذرا سا حوصلہ
رکھنا
وہ سارے وصل کے
لمحے
تم آنکھوں میں
سجا رکھنا
ابھی امکان باقی
ہے
ابھی لب پر دُعا
رکھنا
بہت نایاب ہیں
دیکھو
ہمیں سب سے جُدا
رکھنا
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment