Wednesday, 25 November 2020

Mujhat tum say Muhabbat hai ( I love you now )

نظم

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے

 

تیرے قدموں کی آہٹ سے

تیری ہر مسکراہٹ سے

تیری باتوں کی خوشبو سے

تیری آنکھوں کے جادو سے

تیری دلکش اَدؤں سے

تیری قاتل جفاؤں سے

 

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے

 

تیری راہوں میں رُکنے سے

تیری پلکوں کے جھکنے سے

تیری بے جا شکایت سے

تیری ہر ایک عادت سے

 

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے



 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...