Saturday, 21 November 2020

Kabhi yaad aaiy ( If You Remember )


نظم

 کبھی یاد آۓ تو پوچھنا

ذرا اپنی خلوتِ شام سے

کسے عشق تھا تیری ذات سے؟

کسے پیار تھا تیرے نام سے

ذرا یاد کر وہ کون تھا۔۔

جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا

وہ جو مر مٹا تیرے نام پر۔۔

وہ جی اُٹھا تیرے نام سے

ہمیں بے رُخی کا  نہیں گلہ ۔

کہ یہی ہے وفاؤں کا صلہ۔

مگر ایسا جُرم تھا کون سا؟

گیٔے ہم دُعا و سلام سے

 کبھی یاد آۓ تو پوچھنا

ذرا اپنی خلوتِ شام سے



 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...