نظم
یہ ہم تسلیم
کرتے ہیں
تمہیں فُرصت نہیں ملتی
ہمارے واسطے تم
کو
کوئی ساعت نہیں
ملتی
ہماری سوچ کے
محور
کبھی اِک پل
سوچو تو
تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
اور اِتنا یاد
کرتے ہیں
کہ خود کو بھول
جاتے ہیں
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment