Friday, 29 May 2020

Likhi taqdeer per ( Fate written )


غزل

اپنے فیصلوں پر پچھتانا کیا

لکھی تقدیر کو مٹا نا کیا


تم مجھ سے جُدا ہوئے لیکن

پھول سے خوشبو کا بچھڑنا کیا


پیا ر ہونا تھا ھو گیا آخر!

وقت کی آندھی سے ڈرنا کیا


تم سے آباد تھا گوشہِ دل

اب اِس ویرانے کو سجانا کیا


کون جیتا ہے ،کون ہارا ہے

میرا انصافِ وفا کرنا کیا


محبت کے نام پر ہوئے قربان

زمانے میں اک عادؔل دیوانہ کیا



No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...